Transsexuals entry: “We will eventually be accepted.

Transsexuals entry: “We will eventually be accepted.

پاکستان میں رواں سال مردم شماری میں خواجہ سراؤں کو بھی شمار کرنے کے عدالتی حکم کا خواجہ سراؤں نے خیرمقدم کیا ہے تاہم اس حوالے سے ان کے کچھ خدشات بھی ہیں۔

خواجہ سرا رہنما اور جینڈر ایکٹیو الائنس کی سربراہ بندیا رانا نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک خوش آئند فیصلہ ہے اور اس کے لیے انھوں نے طویل عرصے سے آواز اٹھائی تھی اور بالآخر انھیں ملک میں ان کی صحیح تعداد کے بارے میں علم ہوسکتا ہے اور پھر اس کی بنیاد پر وہ حکومت سے ملازمت اور تعلیمی کوٹے کا مطالبہ کر سکیں گے۔

خیال رہے کہ پاکستان کی حکومت نے نو سال کی تاخیر کے بعد ملک میں مردم شماری آئندہ برس 15 مارچ سے شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

بندیا رانا تھا کہنا تھا کہ مردم شماری میں خواجہ سراؤں کو شامل کرنے کے حوالے سے سب سے بڑا مسئلہ نادرا شناختی کارڈ کا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ابھی خواجہ سراؤں کے نئے شناختی کارڈ نہیں بن رہے اور جب تک شناختی کارڈز نہیں ہوں گے تو پھر خانہ شماری کیسے ہوگی؟

خواجہ سرا

خواجہ سراؤں کی فلاح و بہبور کے لیے سرگرم غیرسرکاری تنظیم وجود کی سربراہ ببلی ملک کا کہنا تھا کہ ‘بالآخر ہمیں قبول کرہی لیا جائے گا۔’

ان کا کہنا تھا کہ ‘جب آپ اعدادوشمار میں جگہ دیتے ہیں تو پھر معاشرے میں اس کا احترام بھی ہوتا ہے کیونکہ پہلے ہمارے پاس نہ شناختی کارڈ تھا اور نہ ہی مردم شمار میں نام۔’

ببلی ملک کا کہنا تھا کہ انھیں امید ہے کہ مردم شماری میں شامل کرنے سے ان کی کمیونٹی پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے اور سرکاری ملازمتوں میں بھی ان کا کوٹہ مخصوص کیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ صرف کاغذی کارروائی نہ کی جائے بلکہ اس پر عمل درآمد کو بھی یقینی بنایا جائے۔ ببلی ملک کا کہنا تھا کہ ’ہماری کمیونٹی میں تعلیم کی کمی ہے لہٰذا اس کو مدنظر رکھتے ہوئے ملازمتوں کو مواقع فراہم کرنے چاہییں۔’

خواجہ سراؤں کے حقوق کے لیے سرگرم کارکن قمر نسیم کا کہنا تھا لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے خواجہ سراؤں کی مردم شماری میں شمولیت کا حکم تو جاری کر دیا گیا ہے لیکن بہت سارے خواجہ سراؤں کے پاس شناختی کارڈز ہی نہیں ہیں۔

قمر نسیم کا کہنا تھا کہ بیشتر خواجہ سراؤں کے شناختی کارڈز پر جنس مرد درج ہے اور جب تک انھیں ہنگامی بنیادوں پر ان کی جنس کا شناختی کارڈ نہیں مہیا کیا جاتا مردم شماری میں وہ شمار نہیں ہوں گے۔

انھوں نے حال ہی سینیٹ سے منظور ہونے والے ٹرانسجینڈر پروٹیکشن بل کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ بل اس قدر پیچیدہ ہے کہ جس کی وجہ سے خواجہ سراؤں کو نادرا شناختی کے حصول میں مزید مشکلات کا سامنا ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ لاہور ہائی کورٹ کی طرف سے ایک اچھا قدم ہے لیکن وقت اتنا قلیل ہے کہ یہ دیکھنا ہوگا کہ نادرا اور متعلقہ ادارے اس پر کس حد تک عمل درآمد کرتے ہیں۔

واضح رہے کہ خواجہ سراؤں کو مردم شماری ميں شامل کرنے کی درخواست شيراز ذکا ايڈوکيٹ کے توسط سے لاہور ہائی کورٹ ميں دائر کی گئی تھی جس کي سماعت کے دوران چیف جسٹس منصور علی شاہ نے کی اورعدالت کے استفسار پر حکومتی نمائندگان نے یقین دہانی کرائی کہ آئندہ مردم شماری میں خواہ سراؤں کو بھی شامل کیا جائے گا۔

 


Reply